موجودہ دور میں بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہونا ایک عام بات ہے، لیکن اکثر والدین کو اس وقت شدید جھٹکا لگتا ہے جب انہیں بینک کی طرف سے ہزاروں روپے کی کٹوتی کا پیغام ملتا ہے۔ موبائل گیمز اور ایپس میں کشش پیدا کرنے کے لیے تیار کردہ کریڈٹ سسٹم بچوں کو غیر ارادی طور پر بٹن دبانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ محض پیرنٹل کنٹرولز آن کر دینا کافی ہے، لیکن گیمنگ ایپس کے ڈیزائن میں موجود کچھ باریکیاں ان سیکیورٹی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ آپ اپنے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کو مالی نقصان سے مکمل طور پر کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
زیادہ تر موبائل گیمز مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہوتی ہیں لیکن ان کا بنیادی بزنس ماڈل **ان ایپ خریداریوں** پر مبنی ہوتا ہے۔ ورچوئل سکّے، ہیرو کے نئے کپڑے اور گیم کے مراحل جلد مکمل کرنے والی سہولیات بچوں کو جلد بازی میں فیصلے کرنے پر اکساتی ہیں۔ جب بچوں کو فون دیا جاتا ہے تو وہ بغیر سمجھے پاپ اپس پر کلک کرتے جاتے ہیں اور بیک اینڈ پر موجود پیمنٹ میتھڈ کے ذریعے رقم وضع ہو جاتی ہے۔
صرف سسٹم لیول کی پابندیاں بچوں کی اس غیر ارادی اور رقم ضائع کرنے والی گیمنگ عادت کا مکمل حل نہیں ہیں۔
ایپل کا ایکو سسٹم سیکیورٹی کے بہترین ٹولز فراہم کرتا ہے، لیکن آپ کو انہیں صحیح طریقے سے کنفیگر کرنا ہوتا ہے۔ اپنے آئی او ایس ڈیوائس پر درج ذیل اقدامات کریں:
آئی فون کی سیٹنگز میں 'Screen Time' پر جائیں اور 'Content & Privacy Restrictions' کو فعال کریں۔ یہاں 'iTunes & App Store Purchases' کے آپشن میں جا کر 'In-app Purchases' کو مسدود (Don't Allow) کر دیں۔ اس سے ایپس کے اندر کسی بھی قسم کی رقم کی ادائیگی کا آپشن ہی ختم ہو جائے گا۔
اگر آپ خریداری کا آپشن کھوئے بغیر سیکیورٹی چاہتے ہیں تو 'Always Require Password' کو منتخب کریں۔ اس سے ہر بار خریداری کے وقت پاس ورڈ یا فیس آئی ڈی کی تصدیق لازمی ہوگی۔
گوگل پلے اسٹور بھی والدین کو کافی اختیارات فراہم کرتا ہے، تاہم ڈیفالٹ سیٹنگز اکثر کھلی ہوتی ہیں۔ اینڈرائیڈ پر تحفظ قائم کرنے کا طریقہ یہ ہے:
کئی بار والدین بچوں کو ڈیوائس ان لاک کرنے کے لیے اپنا فنگر پرنٹ یا پن کوڈ بتا دیتے ہیں۔ یہی پن کوڈ پلے اسٹور یا ایپ اسٹور پر بھی کام کر جاتا ہے۔ لہٰذا، اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایپ اسٹور کی خریداری کے لیے استعمال ہونے والا پاس ورڈ فون ان لاک کرنے والے پاس ورڈ سے بالکل مختلف ہو۔ اگر آپ کا بچہ بھی وہی ڈیوائس استعمال کرتا ہے تو اس کے فنگر پرنٹ کو بائیو میٹرک سیکیورٹی لسٹ سے ہٹا دیں۔
موبائل ٹیکنالوجی کے اس دور میں بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنا ممکن نہیں، لیکن **ان ایپ خریداریوں** کی سیٹنگز کو درست کر کے آپ کسی بھی بڑے مالیاتی سرپرائز یا غیر ضروری نقصان سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ بچے نے گیم کھیلتے ہوئے غلطی سے کوئی خریداری کر لی ہو؟ اپنے تجارب اور رائے نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!









